بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کویت کا "احمد الجابر" ایئربیس بظاہر کویتی فضائیہ کے اہم اڈوں میں سے ایک ہے جو اس ریاست کے دوسرے اڈوں کی طرح امریکہ کے زیر قبضہ ہے اور خطے میں اامریکی مرکزی کمان "سینٹ کام (CENTCOM)" کے وسیع نیٹ ورک کے تحت زیر استعمال ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے اس کو دہشت گرد امریکی فوج کے جارحانہ اقدامات کے جواب میں کی جانے والی کارروائیوں کے دوران مسلسل نشانہ بنایا گیا۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے اعلامیوں کے مطابق، اس اڈے پر امریکی فوجی انفراسٹرکچر کے مختلف عناصر، ـ جن میں ایک اسٹراٹیجک FPS ریڈار سسٹم اور فضائی دفاع سے منسلک سیٹلائٹ مواصلاتی نظام شامل ہیں، ـ کو آپریشن "نصر 2" کے دوران تباہ کر دیا گیا۔
آپریشن "وعدۂ صادق 4" کی مختلف لہروں میں یہ اعلان کیا گیا کہ احمد الجابر میں امریکی افواج کی تعیناتی کے بعض حصوں کو بیلسٹک میزائلوں اور تباہ کن ڈرون طیاروں کا نشانہ بنایا گیا۔
علاوہ ازیں، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے بھی آپریشن "وعدۂ صادق 4" کے دوران اس اڈے پر متعدد ڈرون حملے کئے تھے۔
احمد الجابر ایئربیس اپنی جغرافیائی حیثیت، خلیج فارس کے شمال میں واقع ہونے، عراق سے قربت، اور امریکی فضائی کارروائیوں کی پشت پناہی میں اپنے کردار کی وجہ سے، واشنگٹن کے خطے میں موجود فوجی سلسلے کے اہم اڈوں میں شمار ہوتا ہے۔
احمد الجابر ایئربیس کہاں ہے؟
احمد الجابر فضائی اڈہ (Ahmad Al Jaber Air Base) صوبہ الاحمدی میں، کویت شہر سے تقریباً 40 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ یہ اڈہ، جس کا نام کویت کے دسویں امیر شیخ احمد الجابر الصباح کے نام پر رکھا گیا ہے، 1970 کی دہائی سے کویت کی فضائیہ کے جنگی طیاروں کی تعیناتی کے اہم مراکز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
یہ اڈہ جنوبی کویت میں، خلیج فارس کے شمالی ساحلوں سے تھوڑے فاصلے پر، اس ریاست کے تیل اور صنعت کے مراکز کے قریب واقع ہے، جس نے ابتدا ہی سے اسے ایک عام فضائی اڈے سے بڑھ کر ایک خاص پوزيشن عطا کی تھی۔ اس جغرافیائی محل وقوع نے خلیج فارس کے شمال میں ہونے والی تبدیلیوں پر فوری ردعمل، بحری نقل و حمل کے راستوں کی معاونت، اور عراق کی سرحد تک آسان رسائی ممکن بنائی ہے۔
آج خلیج فارس کی ریاستوں میں واقع کئی دوسرے امریکی اڈوں کی طرح یہ اڈہ بھی تباہی اور ویرانی کے مناظر پیش کر رہا ہے اور شیطان اکبر کے پیروکار عرب حکمرانوں کے لئے نشان عبرت بنا ہؤا ہے اور اپنی خاموشیوں میں چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ شیطان اکبر ایک محفوظ طاقت نہیں ہے اور ایران جیسے ممالک اپاہج نہیں ہیں اور گوکہ وہ اب تک ان ممالک پر براہ راست حملے سے اجتناب کرتا آیا ہے لیکن وہ ان ریاستوں میں دشمن کے اڈوں کو برداشت نہیں کرے گا اور انہیں مٹی کے ڈھیر میں بدل سکتا ہے؛ اور یہ کہ 10000 کلومیٹر دور سے آنے والے کسی دن چلے جائیں گے لیکن پڑوسیوں کو بدلا نہیں جا سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ